ابوطالب علیہ السلام، امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے والد بزرگوار اور رسول اللہ (ص) کے چچا اور آپ (ص) کے والد ماجد کے سگّے بھائی ہیں دونوں کی والدہ بھی ایک ہے. انہوں نے اس بارے میں شاعری کی زبان میں فرمایا ہے: لا تخذلا و انصرا ابن عمكما
إخی لامی من بينہم و إبی(1)
[بیٹو] اپنے چچا زاد بھائی کو تنہا مت چھوڑو اور اس کی مدد کرو
کہ وہ میرے بھائیوں کے درمیان والد اور والدہ دونوں کی طرف سے میرے بھائی کا فرزند ہے.
1. معروف عصر:
جناب ابو طالب (ع) اپنی شخصیت کی عظمت اور ہر لحاظ سے قدآور، طاقتور اور اپنے زمانے میں دین ابراہیم علیہ السلام کے مبلغ تھے.
2. ان کی قابل قبول روایتیں:
انہوں نے عصر جاہلیت میں ایسی نیک روایات کی بنیاد رکھی جن کو کلام وحی کی تأئید حاصل ہوئی. (2) حضرت ابوطالب علیہ السلام «قسامہ» کے بانی ہیں جو اسلام کے عدالتی نظام میں مورد قبول واقع ہؤا۔ (3)
نيكوان رفتند و سنت ہا بماند
و زلئيمان ظلم و لعنت ها بماند
------
نیک لوگ چلے گئے؛ ان کی سنتیں باقی رہ گئیں جبکہ
لئیموں سے ظلم و لعنت کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا
3. بندہ خدا:
ابو طالب جو «عبد مناف» کے نام سے مشہور تھے، اور عبدمناف کے معنی ہیں «بندہ خدا» یوں وہ رسول اللہ (ص) کے تیسرے جد امجد کے ہم نام بھی تھے۔ (4)
4. کفر کے خلاف جدوجہد:
وہ اپنے والد ماجد «حضرت عبدالمطلب» کی مانند یکتاپرستی کے راستے پر گامزن رہے اور کفر و شرک اور جہل کے زیر اثر نہیں آئے.
5. ان کے ایمان کے دلائل:
ان کی شاعری ان کے طرز فکر اور ان کے ایمان کو واضح کرتی ہے اور اس مضمون کے آخر میں ان کے بعض اشعار بھی پیش کئے جارہے ہیں.
6. خلوص قلب:
ویسے تو بہت ایسے واقعات تاریخ میں ثبت ہیں جن سے حضرت ابوطالب علیہ السلام کے خلوص دل اور صفا و طہارت قلب عیاں ہے. مگر ہم یہاں صرف ایک واقعہ بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ:
اہلیان حجاز پر قحط عارض ہؤا. لوگ – عیسائی و مشرک و جاہل و بت پرست اور دین حنیف کے پیروکار – سب کے سب مؤمن قریش حضرت ابوطالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے؛ کیونکهہ انہیں معلوم تھا کہ مکہ میں دین ابراہیم (ع) کے اس مروج و مبلغ جتنی کسی کو بھی خدا کی اتنی قربت حاصل نہیں ہے چنانچہ انہوں نے ان تشویشناک حالات میں ان ہی سے درخواست کی کہ اٹھیں اور "خدا سے باران رحمت کی درخواست کریں"ان کا جواب مثبت تھا اور ایسے حال میں بیت اللہ الحرام کی طرف روانہ ہوئے کہ ان کی آغوش میں «چاند سا» لڑکا بھی تھا. حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے سے کہا کہ کعبہ کو پشت کرکے کھڑا ہوجائے اور حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور خداوند متعال کی بارگاہ میں باران رحمت کی دعا کی. بادل کا نام و نشان ہی نہ تھا مگر اچانک آسمان سے بارش نازل ہونے لگی اور اس بارش نے حجاز کی پیاسی سرزمین کو سیراب کیا اور مکہ کی سوکھی ہوئی وادی کھل اٹھی.
وہ چاند سا لڑکا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سوا کوئی اور نہ تھا (5) جنہیں ابوطالب ہی جانتے اور پہچانتے تھے کہ وہ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں اور اسی بنا پر خدا سے ان کے صدقے باران رحمت کی دعا کی جو فوری طور پر قبول بھی ہوئی. حضرت ابوطالب علیہ السلام اسی حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں فرماتے ہیں:
و أبيض يستسقى الغمام بوجهه
ثمال اليتامى عصمة للارامل
-----
وہ ایسا روشن چہرے والا ہے جس کے صدقے بادل پر باران ہوجاتے ہیں
وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں “
هركسی اندازه روشن دلی
غيب را بيند به قدر صيقلی
هركه صيقل بيش كرد او بيش ديد
بيشتر آمد بر او صورت پديد
گر تو گويی كان صفا فضل خداست
نيزاين توفيق صيقل زآن عطاست
--------
ہر کوئی اپنی روشن دلی کی سطح مطابق
غیب کو دیکھتا ہے اپنے قلب کی صفا و خلوص کی حد تک
جس نے جتنا دل کو زیادہ خالص کیا اس نے زیادہ ہی دیکھا